Haqeeqat-e-Iman
حقیقت ایمان
لیکچر نوٹستفہیمِ دین آن لائن کورس برائے خواتین (اردو)جون 23 ، 2020 | ![]() |
دینی تصورات میں کجی اور ٹیڑھ
Slide No. 2
- کجی اور ٹیڑھ کا تاریخی پسِ منظر
- ا مت مسلمہ کے زوال کی انتہا اور ۱۹۲۴ ء میں مسلمانوں کی وحدت کا آخری نشان خلافت عثمانیہ کا خاتمہ
- پہلے براہ راست کولونیل پاورز (Colonial Powers)کی غلامی اور اب ذہنی غلامی
تھا جو نہ خوب بتدریج وہی خوب ہوا
کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر
- مستشرقین (Orientalists): یہ غیر مسلم سکالرز تھے جنہوں نے باقاعدہ اسلام کا علم حاصل کر کے اس میں کجی ڈالنے کی کوشش کی۔ سازشوں اور اپنے تصورات کے تحت دین اسلام کی اصطلاحات کی تشریح کی۔
- نتیجہ :
- دین اسلام کا ہر تصورآج مسخ شدہ ہے۔
- ہماری ذمہ داری
- چناچہ ضروری ہے کہ اسلام کے تمام تصورات کےاندر پیدا ہونے والی اس کجی کو سمجھاجائے تا کہ اس کا اصل مفہوم واضح ہو سکے۔
- دینی تصورات میں سب سے بنیادی تصور کیونکہ ’ایمان ‘ ہے جس کی بنیاد پر دین کی پوری عمارت کھڑی ہوتی ہے ، اس لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے اس کو سمجھا جائے۔
Slide No. 3
- موجودہ صورتِ حال
- آج دنیا میں بسنے والے اکثر مسلمان محض اسی لیے مسلمان ہیں کہ وہ مسلمان گھرانے میں پیدا ہو گئے ۔
- یہ ایمان جو ہر مسلمان کو کچھ نہ کچھ حاصل ہے اسے غیر شعوری یا غیر عقلی ایمان سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔
- اس کے حصول کے ذرائع دو ہی مانے جاتے ہیں :
- صحبت صالحین
- کثرت اعمال و اذکار
- موجودہ دور کا المیہ
- کام کے اوقات اتنےسخت ہو گئے ہیں کہ ان دونوں ذرائع سے غیر شعوری طور پر ایمان حاصل کرنا ممکن نہیں رہا ۔ اعمال کا دارو مدار چونکہ ایمان پر ہے اس لیےایمان کی کمزوری کی وجہ سے آج مسلم امہ کاکردار بحیثیت مجموعی گر چکا ہے۔
- غیر شعوری ایمان کے مسائل
- پھر اس قسم کے ایمان کا ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ اس کی سطح (level)برقرار رکھنا مشکل ہوتا ہے ۔ کبھی نیک لوگوں کی صحبت مل گئی تو ایمان بڑھ گیا اور جیسے ہی صحبت سے نکلےتو ایمان گھٹ گیا۔
- اسی طرح کبھی اللہ کو یاد کرنے کا موقع مل گیا تو ایمان بڑھ گیا اور جیسے ہی دنیا میں لگے ایمان گھٹ گیا۔
- اِس کورس کا اصل مقصد
- ان لیکچرزکا مقصد ایمان کے اس غلط مفہوم کو صحیح کرنا ہے۔ اسلام میں ایمان کا مفہوم دیگر مذاہب کی طرح صرف اندھا بہراہو کر ان دیکھے تصورات کو مان لینا نہیں ہے بلکہ اسلام میں ایمان کو عقلی دلائل کی بنیاد پر ثابت بھی کیا جا سکتاہے۔
ایمان کے معنی
Slide No. 4
- لغوی معنی
- عربی میں لفظ ایمان کا مفہوم
مادہ(Root Word): | اَ مَ نَ |
معنی: | امن ، اطمینان، سکون |
ایمان کے لیے استعمال ہونے والا لفظ: | اٰ مَ نَ |
معنی: | مان لینا، عام طور پر ’لِ ‘یا’ بِ‘ کے ساتھ اس کا استعمال ہوتا ہے ۔ |
وضاحت: | تشکیل پائے گئے لفظ میں مادے کا مفہوم موجود رہتا ہے چنانچہ ’اٰمَنَ‘ کے معنی ہوہیں اس طرح مان لینا کہ اطمنان ہو جائے یعنی کسی قسم کا شک و شبہ نہ رہے۔ |
انگلش میں ایمان کے لیے استعال ہونے والے الفاظFaith یا Belief ہے۔
Faith:
Strong belief in the doctrines of a religion, based on spiritual conviction rather than proof.
Belief:
An acceptance that something exists or is true, especially one without proof.
- ایمان اور Faith/Beliefمیں واضح فرق:
- چنانچہ یہ بات ثابت ہوئی کہFaith/Beliefجیسے انگلش الفاظ لفظِ ایمان کی عکاسی نہیں کرتےبلکہ ان کا مفہوم بالکل برعکس ہے۔
- ایمان کا مطلب کسی شک کے بغیر ماننے کا ہے جبکہ ’Faith/ Belief‘ کا مطلب شک کے ساتھ کسی حقیقت کو بغیر کسی دلیل کے مان لینا ہے۔
- اصطلاحی معنی:
دین اسلام میں اصطلاح ِایمان کا مفہوم ہے کہ :
- مندرجہ ذیل چھے غیب کےحقائق کو بغیر کسی شک کے مان لینا ۔
- انگلش میں اس کا مطلب ہو گا: To accept the following unseen realities without any doubt
|
|
|
|
|
|
ایمان کے متعلق مغالطے
Slide No. 5
- پہلا مغالطہ:
ایمان کا مطلب یہی ہے کہ کسی مذہب کے نظریات کو بغیر کسی دلیل کے مانا لیا جائے۔
- یہ مغالطہ شائد غیر مسلم مستشرقین (Orientalists)کے ذریعے اسلام میں آگیا ۔
- عیسائیت اور دیگر مذاہب کے لیے تو واقعی عقل کے بغیر اندھا بہرہ ایمان لانا ضروری تھا، بوجہِ تثلیث۔
- یہ تصورشائد ان مستشرقین کی نگاہوں میں تھا جس کو بنیاد بنا کراُنہوں نے اسلام کے تصورات کو بھی پیش کیا۔
- یہ تصور ات رفتہ رفتہ امت مسلمہ کی غلامی کے باعث ،ذرائع ابلاغ کے مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے اذہان میں راسخ کردیےگئے۔
- لیکن اسلام کا معاملہ دیگر مذاہب سے مختلف ہے ۔ اللہ تعالیٰ تو خود کفار سے دلیل پیش کرنے کا چیلنج کرتے ہیں یہ کیسے ممکن ہے کہ اسلام کی بنیاد عقلی طور پرثابت شدہ نہ ہو۔
- [البقرۃ:۱۱۱،الانبیاء :۲۳، المومنون: ۱۱۷ ،یونس:۹۹ تا ۱۰۰]
وَقَالُوا لَن يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَن كَانَ هُودًا أَوْ نَصَارَىٰ ۗ تِلْكَ أَمَانِيُّهُمْ ۗ قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴿١١١﴾ [البقرۃ]
- اور (یہودی اور عیسائی) کہتے ہیں کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے سوا کوئی جنت میں نہیں جائے گا۔ یہ ان لوگوں کے باطل خیالات ہیں۔ (اے پیغمبر ان سے) کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو دلیل پیش کرو۔
اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ۔ وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تُؤْمِنَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ ؕ وَ يَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِيْنَ لَا يَعْقِلُوْنَ﴿۹۹ تا ۱۰۰﴾]یونس [
- توکیا آپؐ مجبور کریں گے لوگوں کو یہاں تک کہ وہ ہو جائیں مومن۔اور نہیں ممکن کسی فرد کے لیے کہ وہ ایمان لائے مگر اللہ کے حکم سےاوراللہ ڈالتا ہے (کفر کی) نجاست اُن پر جو غور نہیں کرتے۔
وَمَن يَدْعُ مَعَ اللَّـهِ إِلَـٰهًا آخَرَ لَا بُرْهَانَ لَهُ بِهِ فَإِنَّمَا حِسَابُهُ عِندَ رَبِّهِ ۚ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الْكَافِرُونَ ﴿١١٧﴾ [المومنون]
- اور جو شخص خدا کے ساتھ اور معبود کو پکارتا ہے ،جس کی اس کے پاس کچھ بھی دلیل نہیں، تو اس کا حساب اللہ ہی کے ہاں ہوگا۔ کچھ شک نہیں کہ کافر کامیابی نہیں پائیں گے۔
أَمِ اتَّخَذُوا مِن دُونِهِ آلِهَةً ۖ قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ ۖ هَـٰذَا ذِكْرُ مَن مَّعِيَ وَذِكْرُ مَن قَبْلِي ۗ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ الْحَقَّ ۖ فَهُم مُّعْرِضُونَ ﴿٢٤﴾[الانبیاء]
- کیا لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر اور معبود بنالیے ہیں۔ کہہ دو کہ (اس بات پر) اپنی دلیل پیش کرو۔ یہ (میری اور) میرے ساتھ والوں کی کتاب بھی ہے اور جو مجھ سے پہلے (پیغمبر) ہوئے ہیں۔ ان کی کتابیں بھی ہیں۔ بلکہ (بات یہ ہے کہ) ان میں سے اکثر حق بات کو نہیں جانتے اور اس لئے اس سے منہ پھیر لیتے ہیں۔
Slide No. 6
- دوسرا مغالطہ
- ہر وہ شے جس کا وجود حواس خمسہ سےجانا جاسکے وہی حقیقت ہے۔
- یہ تصور صحیح نہیں کیونکہ کائنات میں ایسی بہت سی چیزیں آج دریافت ہو گئی ہیں جن کو حواس خمسہ سے جانا نہیں جا سکتا مگر اس کے باوجود ناصرف انکے وجود کو ہم تسلیم کرتے ہیں بلکہ ان کو استعمال میں بھی لاتے ہیں۔
- کشش ثقل (Gravitational Force)کو ہی لے لیجیے ۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ وہ اگر اونچائی سے چھلانگ لگائے تو اس طاقت کی وجہ سے لازماً زمین کی طرف ہی گرے گا۔ لیکن اس کو براہ راست دیکھا، سنا، سونگھا، چکھا یا محسوس نہیں کیا جا سکتاہے۔
- اسی طرح بجلی(Electricity) اور الیکٹرو میگنیٹک لہریں (Electromagnetic Waves)جن کوہم (wireless technology) میں استعمال کرتے ہیں اُن کو براہ راست حواس خمسہ سے جانا نہیں جا سکتا بلکہ ان کے اثرات سے ان کو جانا جاتا ہے ۔بجلی ویسے تو ان دیکھے اجزاء پر ہی مشتمل ہے پر جب اس کا اثر کسی بلب یا الیکٹرک آلے پر پڑتا ہے تو اس کے وجو د کا پتہ چلتا ہے۔
- اسی طرح موبائل فون پر ملنےہوالی الیکٹرومیگنیٹک لہریں نظر تو نہیں آتیں پر ان کے اثرات کو ماپنے والا آلہ جو ہمارے موبائل فون پر نصب ہوتا ہے ان کی موجودگی کا پتہ دیتا ہے۔
- اسی طرح معاملہ بلیک ہولز(Black Holes) اور اینٹی میٹر(Anti-Matter) کا ہے جنکی حقیقت کا ادراک ان کے ثقلی اثرات (Gravitational Impacts) سےکیا جا سکتا ہے ۔
ایمانیات کا معاملہ
- یہی معاملہ ایمانیات کے حقائق کا ہے ۔
- ان کو بھی حواس خمسہ سے براہ راست جانا نہیں جا سکتا پران کےاثرات سے ان کے وجود کا ادراک حاصل کیا جا سکتا ہے۔
- انہیں اثرات کو اسلام میں ’آیات‘ کہا جاتا ہے جن پر غور وفکر کرنے کی دعوت سے قرآن بھرا پڑا ہے۔
اگلے ہفتے ، ان شاء اللہ
- ایمان باللہ کے عقلی دلائل
- معجزات
- شعوری اور غیر شعوری ایمان میں فرق

