ہماری روداد

احیائے اسلام  کے لیے کی جانے والی  جدوجہد جو عثمانی خلافت کے زوال کے بعد بیسویں صدی کے اواخر میں برپا ہوئی آج ایک بند گلی میں کھڑی  نظر آ رہی ہے ۔ اسلامی  تحریکیں جو کبھی اس جدوجہد کی مشعل بردار سمجھی جاتی تھیں ان کا یا تو صفحہ ہستی سے نام و نشان تک مٹ چکا ہے یا وہ غیر موثر جدوجہد میں محض اپنا وجود برقرار رکھنے کے لیے سرگرداں ہیں۔ جبکہ بعض نے تو اپنے مقصد کو ہی چھوڑ دیا ہے اور اب ’معتدل اسلام‘ کی الم بردار بن گئی ہیں۔ گو کہ ان جماعتوں اور تحریکوں کی بہت سی کامیابیاں ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی غلبہ دین یا اقامت دین کے مقصد کی طرف  خاطرخواہ پیش رفت نہ کر سکی ۔ ان کی اس ناکامی کےمتعدد اسباب ہیں .  جن میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں

فکر اور عمل کا جمود a
محض غیر موثر جدوجہد یا معمول کی  کاروائی پر اکتفا  کر لینا b
مقاصد کی بجائے نظم کو اہمیت دے  دینا c
صحیح اسلامی فکر کی تنظیم  کرنے اور اس کو آج کےمخاطبین   تک ان کے مزاج کے مطابق پہنچانے میں  ناکامی d
اصل نصب العین اور سٹریٹیجک مقاصد  سے صرف نظر کر لینا e
نصب العین اور مقاصد  کے حصول کے لیے ناکارہ وسائل پر انحصار کی روش برقرار رکھنا f
غلبہ دین کی بجائے جماعت یا تحریک کی بقاء کو اصل مقصد بنا لینا g
اہل لیڈرشپ اور فعال کارکنان  کی تیاری میں مسلسل ناکامی h
ایمان سے متعلق تصورات  کے مفاہیم اور ان کی عقلی بنیادوں  سے متعلق ممبران اور معاشرے دونوں میں  آگاہی پیدا کرنے میں مسلسل ناکامی
جماعت یا تحریک میں ہر سطح پر میرٹ کا پس پشت ڈال  دیا جانا

کا قیام انہی کمیوں اور (The Revival Institute) ان سب میں شاید سب سے بڑی وجہ سٹریٹیجک سوچ کا فقدان ہے جو وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔ دی ریوائیول انسٹیچیوٹ
کوتاہیوں کا تدارک کرنے کے لیے عمل میں لایا گیا ہے تا کہ اس کے ذریعے ایک ایسی موثر اور فعال تحریک کی بنیادیں ڈالی جا سکیں جو مقاصد پر مبنی ہو اور جس میں ہر
پلاننگ کی اہمیت کو مد نظر رکھا جائے،تا کہ غلبہ دین کے حتمی مقصد کی طرف ہونے والی پیشرفت کو یقینی بنایا جا سکے. اس  ضمن میں (Strategic) سطح پر سٹریٹیجک
جہا ں ایک خلا موجود ہے جسے ایک موثر جدوجہد  سے  پر کیا جاسکتا ہے ، وہاں کئی چیلنجز بھی ہیں جنہیں مد نظر رکھنا بہت ضروری ہے ۔
ان میں سے چند مندرجہ ذیل ہں


احیائے اسلام کے لیے برپا تحریکوں کی مسلسل ناکامی کی وجہ سے نا امیدی کی فضا کاچھا   جانا a
صحیح اسلامی نظریے  کے رد میں کئی دلائل کا کھڑے کر دیا جانا  جن کاتاحال مدلل ابطال نہیں کیا جا سکا b
مغربی استعما ر کا صحیح اسلامی فکر اور اس کےحامیوں کو اپنے لیے ایک بڑا دشمن قرار دے  دینا اوران کی مخالفت میں تمام تر وسائل کے ساتھ کھڑا ہو جانا c
غلبہ اسلام کے  مقصد کا بہت دور دکھنا  جس کا کوئی بھی تعلق    موجودہ  احیائی جدوجہد سے پیدا نہ کیا جا سکنا d
عالم اسلام میں سے بھی اکثریت کا اس فکر سے کنا رہ کشی اختیار کر کے  اصلاحی تصور دین کو اپنا لینا e
سرمایہ دارانہ نظام اور گلوبلائزیشن کی وجہ سے دنیا کو  بڑے معاشی بحران  کا سامنا جس میں  اکثریت کامحض اپنی بقا ء کے اسباب محیا کرنے  میں مشغول ہو جانا f
میں حد درجہ اضافہ ہو جانا distractionsمیں قرار واقعی کمی آ جانا  اور attention spanانٹرنیٹ اور سمارٹ فونز کی مقبولیت کے بعد لوگوں کے g

.امت میں تفرقہ بازی اور گروہ بندی کی وجہ سے غلبہ دین  کے لیے کی جانے والی جدوجہد  کا متحد نہ ہو پانا  جو اس مقصد  کے حصول کے لیے لازم و ملزوم ہے h
 ان اسب حالات اور چلینجز کو مد نظر رکھتے ہوئے ، اس جدوجہد کا آغا کیا اج رہا ہے جو غلبہِ دین کے حتمی مقصدکی طرف مسلسل اور ٹھوس پیشرفت کو یقینی بنا سکے ۔

ہمارا نظریہ

:وژن

زندگی کے تمام گوشوں میں  اسلام  کو قرآن و سنت کے بنیادی اصولوں اور   آج کے تقاضوں کے مطابق  غالب  کر دینا

:مشن

:معاشرے  میں

توحید کا ہمہ گیر نظریے a

دین  کی عقلی بنیادیں b

دین  اسلام کے قابل عمل سیاسی  ، معاشی ،معاشرتی و اخلاقی  نظام  کے ماڈل سے متعلق شعور c

  اسلامی حقوق  کا  شعور d 

دین اسلام کی انقلابی روح e

عشق الٰہی اور عشق رسول ﷺ f

ان سب کا احیا کر کے دین کو تمام  گوشہ ہائے زندگی پر غالب کرنے کے لیے معاشرے کو ایک منظم و متحد جدوجہد  کی صورت میں کھڑا کر دینا۔

:اقدار

کو ہمیشہ مد نظر رکھنا a

اپنے مقصد اور بنیادی اصولوں پر سمجھوتہ کیے بغیر بدلتے حالات کے ساتھ مسلسل موافقت   پیدا کرتےرہنا b

مقصد زیادہ سے زیادہ موثر ہونے اور مسلسل پیشرفت  کو یقینی بنانے کے لیےتخلیقی سوچ کو  اپنائے رکھنا c

ہر آن اتحاد کو  فروغ دینا d

ہر آن اخلاق کی بلند  ترین سطح   کو برقرار رکھنا e

قرآن و سنت اور معیاری تحقیق   کی روشنی میں سٹریٹیجک سوچ کوہر آن ترجیح دینا f

تنظیمی ڈھانچہ

مختلف سطحوں کے اہداف طے کیے جانے کے بعد  تنظیمی ڈھانچہ  تشکیل دیا گیا جس میں مختلف شعبہ جات کو مختلف  نوعیت کے کاموں  کی مناسبت سے منقسم کر دیا گیا۔ یہ

ڈھانچہ مندرجہ ذیل ہے

تنظیمی ڈھانچہ

:ہر شعبے کے اہداف  جن میں سٹریٹیجک اہداف بھی شامل ہیں مندرجہ ذیل ہیں

اہداف
شعبہ
معاشرے کے  مندرجہ ذیل طبقات سے تعلق رکھنے والے  زیادہ سے زیادہ افراد کو دین کے صحیح نظریے سے متعلق تصورات مدلل
انداز میں سمجھا دینا

حکمران طبقات(سیاسی، تجارتی،سماجی ، مذہبی     اولو الامر ).

حکمرانوں کے درباری

باطل نظام  اور اُسکے اولوالامر کی حمایت کرنے والے علماء  و دانشور

خواندہ  طبقات بالخصوص نوجوان

ناخواندہ طبقات

غیر مسلم
دعوت
زیادہ سے زیادہ ایسے  اراکین تیار کرنا جن میں مندرجہ ذیل اوصاف موجود ہوں

جن کے اذہان میں قرآنی نظریہ حیات راسخ ہو چکا ہو اور وہ  ا ِس  کا مطلوبہ اثر اپنی زندگیوں میں محسوس کر رہے ہوں

.       اِس رسوخ کے نتیجے میں وہ اپنی ذات  اور دائرہِ اثر  پر پوری طرح  سے دین نافذ کررہے ہوں

      ان کے اخلاق بھی بلند ہو جائیں  اور ان  کا تعلق مع اللہ بھی بہتر ہو  جائے

وہ مدلل انداز میں اِس نظریے کو آگے پہنچانے کے اہل بن جائیں

اور اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے ایک  منظم انداز میں موثر جدوجہد کرنے کا جذبہ اور صلاحیت رکھتے ہوں
تربیت
: پر مبنی تعلیمی نظام کو قائم کر کے concept based learning ایک بہترین

 ایسے قابل اسلامی سکالرز تیار کرنا جو دینی اور دنیاوی علوم میں رسوخ رکھتے ہوئے دین کے صحیح فکر کو اعلی علمی سطح تک
پنچانے کی صلاحیت رکھتے ہوں ۔

ایسے اہل کارکنان تیار کرنا جو اعلائے کلمۃ اللہ کی اس جدوجہد میں بہترین ہنر کے ساتھ مطلوبہ ذمہ داریاں احسن ترین طریقے سے ادا کرنے کے قابل ہوں۔
 
تعلیم
تربیت ، دعوت اور تحقیق کے ضمن میں طے کیے گئے مقاصد کے حصول کے لیے  موزوں اشخاص اور اداروں سے تعلقات
استوار کرنا اور اسے برقرار رکھنا۔

دعوت ، تربیت یا  تحقیق   سے متعلق ہذہنی ہم آہنگی  رکھنے والے اداروں اورسیاسی و سماجی  سرگمیاں سرانجام دینے والی جماعتوں  کے ساتھ   غلبہ دین کے جصولکے لیے  موثر اور قابل عمل  اتحاد تشکیل دینا جن کے ذریعے ایک متحد، منظم اور مسلسل بہتری کی طرف گامزن جدوجہد کو یقینی بنایا  جا سکے  ۔
Communications & PR
تربیت ، دعوت اور تحقیق کے ضمن میں طے کیے گئے مقاصد کے حصول کے لیے درکار دیگرانتظامات کو یقینی  بنانا

بیت المال کا انتظام  سنبھالنا
انتظامی أمور
،دین کے انقلابی فکر کو اعلی معیار کے ٹاک شوز، پوڈ کاسٹس، ڈاکیومینٹری

،اینیشنز ، ویڈیو پریزینٹیشنز اور  شارٹ کلپس  کے ذریعے حکمران طبقات

،دانشوروں، باشعور عوام اور نوجوانوں میں پھیلانا اور  جذب کرانا   اور سیاسی

معاشی و معاشرتی معاملات کا  اسلامی نکتہ نظر  سے تجزیہ کرنا
 
The Revival Media

ملکی، علاقائی اور عالمی نظریاتی اور سیاسی منظرنامے پر نگاہ رکھنا تاکہ ہر آن موثر ترین لائحہ عمل  کو مرتب کیا جا سکے

مرتب کرنا  (strategic planning) طویل مدتی ، وسط مدتی اور قلیل  مدتی حکمت عملی

   تربیت  و دعوت کے لیے نیا مواد تیار کرنا
تحقیق اور حکمت عملی
نصب العین اور مقاصد  کی طرف ہونے والی پیشرفت کا جائزہ لینا اور اس کی

عدم موجودگی میں موثر لائحہ عمل کو مرتب کرنا جو نتائج کو یقینی بنا سکے
نگرانی

:بورڈ آف ڈیریکٹرز

دی ریوائول انسٹیچیوٹ کی بنیاد    بورڈ آف ڈائریکٹرز   کے ذریعےعمل میں آئی  جن کے پاس فیصلہ سازی کے ضمن میں حتمی  اختیارات ہیں۔   بورڈ    پریزیڈینٹ    کا انتخاب کرنے کا بھی مجاز ہے  جو بورڈ کی طے کی گئی  سٹریٹیجی  کے مطابق  آرگنائزینشن کو چلانے کا ذمہ دار ہے ۔  

:بورڈ آف ایڈوائزرز

بور ڈ آف ڈائریکٹرز متفقہ فیصلے سے بورڈ آف ایڈوائزرز کی تعیناتی کرنے کے مجاز ہیں  جو  تنظیم کی حکمت عملی  سے متعلق معاملات میں بورڈ آف ڈئریکٹرز کو مشورہ دینے کے مجاز ہیں۔

:مشاورتی کمیٹی

 ان تمام  شعبہ جات کے ڈائریکٹرز پر مشتمل ایک مشاورتی کمیٹی کی بھی تشکیل عمل میں آئی   جن کے ساتھ مشورہ  کرنے کے بعد  فیصلہ کرنا پریزیڈینٹ  پر لازمی ہے۔ پریزیڈینٹ اس  کمیٹی سے مشورے کے بعد کسی اور ممبر کو بھی  اس کمیٹی کا حصہ بنا سکتا ہے۔   ذیل میں اب تک ان ہداف کی طرف ہونے والی پیشرفت کا جائزہ پیش کیا جا رہا ہے ۔